حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ — بڑی آئینی تبدیلیوں کا عندیہ! 📜
📜 حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ — بڑی آئینی تبدیلیوں کا عندیہ! ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کے ذریعے ملک کے آئینی، انتظامی اور عدالتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ترمیم کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں 👇 1️⃣ آئینی عدالت کا قیام: مجوزہ ترمیم میں سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو محدود کر کے ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو صرف آئینی نوعیت کے مقدمات سننے کی مجاز ہوگی۔ 2️⃣ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی: 2001 کے بعد ختم ہونے والا نظام دوبارہ لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انتظامی افسران (ACs, DCs) کو عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس سے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی لکیر دوبارہ دھندلی ہو سکتی ہے۔ 3️⃣ ججوں کے تبادلے کا نیا نظام: ججوں کے تبادلوں کے طریقہ کار میں ترمیم کی تجویز ہے تاکہ ہائی کورٹس کے ججوں کو مرکزی اتھارٹی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے — جو عدلیہ کی خودمختاری پر بحث چھیڑ سکتا ہے۔ 4️⃣ این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کا خاتمہ: یہ نکتہ سب سے زیادہ متنازع قرار دیا جا رہا ...