Pay protection case for BSP 16 & 18
یہ لیٹر *پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ* کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں *بی پی ایس-16 میں ریگولر سرکاری ملازمین* کے بارے میں رہنمائی دی گئی ہے جو *بی پی ایس-17 (ہیڈ ماسٹر)* پر *کنٹریکٹ بیس* پر تعینات ہوئے اور بعد میں اسی کنٹریکٹ پوسٹ پر *ریگولر* کیے گئے۔
*اہم نکات:*
1. *05-04-2013* سے پہلے جو ملازمین کنٹریکٹ بیس پر اپوائنٹ ہوئے اور بعد میں ریگولر ہوئے، انہیں *پے پروٹیکشن* (تنخواہ کا تحفظ) حاصل ہے۔
2. *05-04-2013* کے بعد جو ملازمین کنٹریکٹ پر اپوائنٹ ہوئے اور بعد میں ریگولر کیے گئے، وہ اس سہولت کے اہل *نہیں* ہیں کیونکہ یہ پالیسی اسی تاریخ کو *ختم* کر دی گئی تھی۔
3. مثال کے طور پر *ڈاکٹر اعجاز محبوب* کا کیس اس تاریخ سے پہلے کا ہے، اس لیے انہیں پے پروٹیکشن کا فائدہ دیا گیا۔
4. اس فیصلے کی بنیاد پر *فنانس ڈیپارٹمنٹ* نے *اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب* کے مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔
*خلاصہ:*
*جو ہیڈ ماسٹر حضرات 05 اپریل 2013 سے پہلے کنٹریکٹ پر لگے اور بعد میں ریگولر ہوئے، انہیں پے پروٹیکشن دی جائے گی۔ اس کے بعد والے کیسز اس سہولت سے محروم رہیں گے۔*

Comments
Post a Comment