📢 *ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 منسوخ — کنٹریکٹ ملازمین کے لیے بڑا جھٹکا 📢

 📢 *ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 منسوخ — کنٹریکٹ ملازمین کے لیے بڑا جھٹکا!*  


حکومت پنجاب نے 31 اکتوبر 2025 کو *"Punjab Regularization of Service Act 2018"* کو *منسوخ* کر دیا ہے۔ اب اس قانون کے تحت کوئی بھی کنٹریکٹ ملازم مستقل نہیں ہو سکے گا۔


🔴 *یہ قانون کیا تھا؟*  

2018 میں منظور ہونے والا یہ قانون اُن ملازمین کے لیے تھا جو *کنٹریکٹ پر 3 سال* یا اس سے زائد خدمات انجام دے چکے تھے۔ اس قانون کے تحت انہیں *مستقل کرنے کا حق* حاصل تھا۔


⚠️ *اب کیا ہوا؟*  

گورنر پنجاب کی جانب سے جاری کردہ *"Repeal Ordinance 2025"* کے مطابق:  

- یہ ایکٹ *مکمل طور پر منسوخ* کر دیا گیا ہے۔  

- حکومت کا مؤقف ہے کہ مستقل کرنے سے *سرکاری خزانے پر بوجھ* پڑتا ہے۔


📌 *کیا اس سے پچھلے ریگولر ملازمین متاثر ہوں گے؟*  

نہیں، جو ملازمین پہلے سے ریگولر ہو چکے ہیں، ان پر اس منسوخی کا *اطلاق نہیں ہو گا۔* لیکن نئے ملازمین کی مستقل تعیناتی کے امکانات *ختم* ہو گئے ہیں۔



📣 *ہماری گزارش:*  

حکومت سے اپیل ہے کہ ایسے کنٹریکٹ ملازمین جو سالوں سے خدمت انجام دے رہے ہیں، ان کے لیے *کوئی متبادل اور شفاف مستقل پالیسی* لائی جائے تاکہ ان کا استحصال نہ ہو۔









Comments

Popular posts from this blog

ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اشتہار برائے اسکول ٹیچنگ انٹرنز (STIs)

میں PSER سروے میں خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کرام کے لیے خوشخبری

Lum sum pay for Punjab contract employee