Posts

Showing posts from December, 2025

Lum sum pay for Punjab contract employee

Image
 لم سم پیکیج ڈیٹیل فرماٸش پہ سرکاری ملازم کی تنخواہ سے ہر قسم کی کٹوتی ختم کر کے اسے یکمشت ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کے دوران: ماہانہ تنخواہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نوکری ختم ہونے/وفات پانے کی شکل میں ملازم کو محکمہ کی جانب سے کچھ بھی نہیں ملتا۔

Contract employee convert to Lum sum pay

Image
 تصویر 24 دسمبر 2025 کو حکومت پنجاب، محکمہ سکول ایجوکیشن کی طرف سے ایک رسمی دستاویز ہے۔ دستاوی موضوع نئے قواعد و ضوابط کے مطابق کنٹریکٹ ملازمین کو یکمشت تنخواہ کے نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ دستاویز میں اسکول گارڈز اور دیگر کنٹریکٹ عملے کے ملازمت کے فریم ورک کے حوالے سے سابقہ خط و کتابت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں پنجاب ریگولرائزیشن آف سروس (ریپیل) آرڈیننس 2025 کا ذکر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے متعلقہ کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو بنیادی پے اسکیل (BPS) سے یکمشت تنخواہ پیکیج میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تبدیلی کو ایک تازہ ترین ریگولیٹری فریم ورک کے حصے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا مقصد انتظامی اخراجات کو ہموار کرنا ہے۔ دستاویز تمام متعلقہ DDOS (ڈرائنگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز) کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتی ہے کہ تنخواہوں کے تعین کو موجودہ قواعد کے تحت متعین نئے پیمانے کے مطابق عمل میں لایا جائے، جو کہ فوری طور پر موثر ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے تنخواہ کے ڈھانچے کے ساتھ متضاد تمام سابقہ آرڈرز کو ختم کر دیا گیا ہے۔ دستاویز پر ایک سیکشن آفیسر (SE-IV-B) کے دستخ...

Sad Story of PST from khushab

Image
 ملازم محکمہ ایجوکیشن خوشاب میں بطور پی ایس ٹی ٹیچر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا تاہم 2016 میں جھوٹے قتل کے مقدمہ میں گرفتار اور عدالت سے سزا ہوا۔ 8 سال بے گناہ جیل میں رہنے اور عدالتی اخراجات کی وجہ سے ملازم کے گھر والوں کی ساری جمع پونجی قانونی جنگ میں لگ گئی.  تاہم 2024 میں ہائیکورٹ نے قتل کے الزام سے باعزت بری کیا ،جیل سے باہر آنے کے بعد ملازم نے محکمہ میں جوائننگ کے لیے رجوع کیا تو محکمہ نے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے فوجداری مقدمہ میں ملوث ہونے اور غیر حاضری کا الزام لگا کر جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دے دی۔ محکمانہ سزا کو میری طرف سے عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے میرے دلائل اور محکمہ کے دلائل سننے کے بعد میری اپیل منظور کرتے ہوئے ملازم کو دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی ۔  مزید قرار دیا کہ جب  ملازم فوجداری مقدمہ سے بری ہوتا ہے تو ایسی صورت میں تمام بقایا جات کے ساتھ نوکری پر بحال ہونے کا حقدار ہوتا ہے۔ دعاگو:اللہ نواز کھوسہ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ و سروس ٹربیونلز  33/A Queens Road Behind Queens Centre Mozang Lahore. Whatsapp 03336073636

Delegation of powers in SED

Image
 Delegation of powers in SED

Contributory pension Fund

Image
 گورنمنٹ آف پاکستان کے نوٹیفکیشن کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ کے تمام ملازمین جو یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد ریگولر بھرتی ہوئے ہیں اُن کو پینشن نئے نظام یعنی کنٹربیوٹری پینشن سکیم کے تحت ادا کی جائے گی۔  اس پینشن سکیم کے تحت  ۱۔  کنٹریبیوشن  کی مد میں سرکاری ملازم کی basic تنخوا کی دس (۱۰) فیصد کٹوتی ہوگی ۲۔ جب کے فیڈرل گورنمنٹ کنٹریبوشن کی مد میں basic تنخوا کا بیس (۲۰) فیصد ادا کرے گی۔ جب کے اس سے پہلے پوسٹ میں بتایا جا چکا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ میں 8 جنوری 2024 یا اس کے بعد ریگولر بھرتی ہونے والے ملازمین اور کنٹریکٹ سے ریگولر ہونے والے ملازمین اپنی تنخوا کا  دس (۱۰) فیصد اور پنجاب گورنمنٹ بارہ(۱۲) فیصد کنٹربیوٹ کرے گی۔

HOTS modeul 1 and 2

  HOTS modeul 1 HoTS modeul 2 HoTS modeul

DCPS in punjab

Image
 پنجاب گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق ایسے گورنمنٹ ملازمین جو 08 جنوری 2024 کو یا اس کے بعد ریگولر appoint ہوئے ہیں یا پھر کنٹریکٹ سے ریگولر ہوئے ہیں۔ اُن کو پینشن ایک نئے نظام کے تحت ملے گی اس نظام کے تحت 1۔ ملازم کی تنخوا سے 10% ہر ماہ پینشن کنٹربیوشن کی مد میں کٹوتی ہوگی 2۔ جب کے گورنمنٹ 12% ہر ماہ share بھی دے گی  یہ ٹوٹل 22% انویسٹ کر کے حاصل ہونے والا منافع بھی اس فنڈ میں جمع ہوتا رہے گا۔  اس لیے دسمبر 2025 کی تنخوا سے کٹوتی کو لازم قرار دیا گیا ہے ریٹائرمنٹ کے وقت اس فنڈ میں جمع شدہ رقم کا 25% ادا کر دیا جائے گا جب کے باقی 75% کے ذریعے ریٹائرمنٹ کے بعد 20 سال تک پینشن ادا کی جائے گی ایسے تمام ملازمین جو 08 جنوری 2024 کو یا اس اس کی بعد ریگولر بھرتی ہوئے ہیں یا پھر اس تاریخ کے بعد سے کنٹریکٹ سے ریگولر ہوئے ہیں اپنی کٹوتی کو یقینی بنائیں تاکہ آپکا پینشن فنڈ اکاؤنٹ شروع ہو سکے۔